لیبر مارکیٹ
عالمی ادارہِ محنت کی پاکستان میں2021 کے مقابلےمیں بے روزگاروں کی تعداد میں 15 لاکھ کے اضافے کی پیشن گوِئی
لیبر مارکیٹ کی تازہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ کس طرح طویل ہوتے بحرانوں نے لیبر مارکیٹ کی بدحالی میں اضافہ کر دیا ہے۔
14 September 2023
Content also available in:
English
اسلام آباد، پاکستان (آئی ایل او نیوز) - عالمی ادارہِ محنت (آئی ایل او) کی جانب سے جاری کردہ لیبر مارکیٹ کی مختصر رپورٹ کے مطابق، ملازمت کے مواقع میں کمی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری پاکستان کی باوقار روزگار کی جانب پیش قدمی کو کئی عشروں تک پیچھے دھکیل سکتے ہیں ۔
ادارے کی تازہ رپورٹ میں پاکستان میں لیبر مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تخمینہ پیش کیا گیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران مستقبل قریب میں روزگار کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
عالمی ادارہِ محنت کے اندازوں کے مطابق، 2023 میں، پاکستان میں روزگار کی شرح بلحاظ آبادی 47.6 فیصد کے ساتھ گزشتہ کئی عشروں میں سب سے کم ترین سطح کو چھو لے گی جبکہ بے روزگار افراد کی تعداد (اس سال) 56 لاکھ تک بڑھ جانے کی توقع ہے، جو سال2021 سے پندرہ (15) لاکھ کا اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کی بے روزگاری کی شرح، جو تاریخی طور پر مردوں کی شرح بیروزگاری سے کم از کم 1.5 گنا زیادہ ہے، 11.1 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہے۔
لیبر مارکیٹ کی روز افزوں مشکلات پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی عکاسی کرتی ہیں، جو کہ COVID-19وبا کے بحران، 2022 کے سیلاب اور حالیہ اجتماعی معاشی ہلچل/بحران سے مزید سنگین ہو چکی ہے۔ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ، جس کی رو سے ملک کو جولائی 2023 میں 3 بلین ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) حاصل ہوا، کا مقصد ڈیفالٹ کو روکنا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہے۔ تاہم، SBA اور اس کے نفاذ کے لیے درکار پبلک فنانسنگ پر دباؤ کے باعث، لیبر مارکیٹ کی بہتری کے امکانات پر کم از کم مختصر مدت میں مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔
آئی ایل او پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر گیئر ٹونسٹول نے کہا ہے کہ "پاکستان کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے جن کی بنا پر ملک کی لیبر مارکیٹوں کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں غیر رسمیت اور ملک سے باہر نقل مکانی میں اضافہ ہو ا ہے۔ اپنے چوتھے باوقار روزگار کے ملکی منصوبے (ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام - DWCP) کے ذریعے،عالمی ادارہِ محنت محنت کشوں اور مشکلات کا سامنا کرنیوالے کاروباری اداروں کی حالت زار کو کم از کم مختصر مدت میں بہتر بنانے اور ایسے حل کی جستجو کیلئے پر عزم ہے جو اس کٹھن وقت میں ان کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو" ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایل او سماجی استحکام کے لیے سماجی مکالمے کو ایک ہتھیار کے طور پر مظبوط تر بنائے گا اور خواتین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ، باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صوبائی سطح پر مربوط اور وسیع البنیاد بحالی کی حکمت عملی تیار کرے گا۔
مراسلے میں ممکنہ اقدامات کی ایک فہرست پر روشنی ڈالی گئی ہے جو لیبر مارکیٹ کی بحالی میں معاون ہو سکتے ہیں اور پاکستان میں مستقبل قریب میں باوقار روزگار کے خسارے میں کمی لا سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں خواتین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ، باوقار ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صوبائی سطح کی بحالی کی حکمت عملی ؛ غریبوں اور کمزور ترین طبقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ، ملازمتوں اور سماجی تحفظ کے پروگراموں پر سرکاری اخراجات کا تسلسل؛ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی امداد ؛ محنت کشوں کا خیال رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگی کے منصوبوں کو ترجیح دینا، اور سماجی استحکام کیلئے سماجی مکالمے کو ایک ہتھیار کے طور پر مضبوط بنانا شامل ہیں۔
ادارے کی تازہ رپورٹ میں پاکستان میں لیبر مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تخمینہ پیش کیا گیا ہے کہ موجودہ معاشی بحران مستقبل قریب میں روزگار کی صورتحال پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
عالمی ادارہِ محنت کے اندازوں کے مطابق، 2023 میں، پاکستان میں روزگار کی شرح بلحاظ آبادی 47.6 فیصد کے ساتھ گزشتہ کئی عشروں میں سب سے کم ترین سطح کو چھو لے گی جبکہ بے روزگار افراد کی تعداد (اس سال) 56 لاکھ تک بڑھ جانے کی توقع ہے، جو سال2021 سے پندرہ (15) لاکھ کا اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق خواتین کی بے روزگاری کی شرح، جو تاریخی طور پر مردوں کی شرح بیروزگاری سے کم از کم 1.5 گنا زیادہ ہے، 11.1 فیصد کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہے۔
لیبر مارکیٹ کی روز افزوں مشکلات پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کی عکاسی کرتی ہیں، جو کہ COVID-19وبا کے بحران، 2022 کے سیلاب اور حالیہ اجتماعی معاشی ہلچل/بحران سے مزید سنگین ہو چکی ہے۔ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ معاہدہ، جس کی رو سے ملک کو جولائی 2023 میں 3 بلین ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (SBA) حاصل ہوا، کا مقصد ڈیفالٹ کو روکنا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانا ہے۔ تاہم، SBA اور اس کے نفاذ کے لیے درکار پبلک فنانسنگ پر دباؤ کے باعث، لیبر مارکیٹ کی بہتری کے امکانات پر کم از کم مختصر مدت میں مزید دباؤ آنے کا امکان ہے۔
آئی ایل او پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر گیئر ٹونسٹول نے کہا ہے کہ "پاکستان کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے جن کی بنا پر ملک کی لیبر مارکیٹوں کو بھاری نقصان اٹھا نا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں غیر رسمیت اور ملک سے باہر نقل مکانی میں اضافہ ہو ا ہے۔ اپنے چوتھے باوقار روزگار کے ملکی منصوبے (ڈیسنٹ ورک کنٹری پروگرام - DWCP) کے ذریعے،عالمی ادارہِ محنت محنت کشوں اور مشکلات کا سامنا کرنیوالے کاروباری اداروں کی حالت زار کو کم از کم مختصر مدت میں بہتر بنانے اور ایسے حل کی جستجو کیلئے پر عزم ہے جو اس کٹھن وقت میں ان کے روزگار کا تحفظ یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو" ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایل او سماجی استحکام کے لیے سماجی مکالمے کو ایک ہتھیار کے طور پر مظبوط تر بنائے گا اور خواتین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ، باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صوبائی سطح پر مربوط اور وسیع البنیاد بحالی کی حکمت عملی تیار کرے گا۔
مراسلے میں ممکنہ اقدامات کی ایک فہرست پر روشنی ڈالی گئی ہے جو لیبر مارکیٹ کی بحالی میں معاون ہو سکتے ہیں اور پاکستان میں مستقبل قریب میں باوقار روزگار کے خسارے میں کمی لا سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں خواتین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ، باوقار ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے صوبائی سطح کی بحالی کی حکمت عملی ؛ غریبوں اور کمزور ترین طبقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ، ملازمتوں اور سماجی تحفظ کے پروگراموں پر سرکاری اخراجات کا تسلسل؛ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی امداد ؛ محنت کشوں کا خیال رکھتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگی کے منصوبوں کو ترجیح دینا، اور سماجی استحکام کیلئے سماجی مکالمے کو ایک ہتھیار کے طور پر مضبوط بنانا شامل ہیں۔